Friday, May 10, 2013

SUFIYANA KALAM



Kafir Ishqm Musalmani Mera Darkar Naist
Har Rag e Man Taar Gashta Hajat e Zanaar Naist
کافر عشقم مسلمانی مرا درکار نیست
ہر رگ من تار گشتہ حاجت زنار نیست
میں عشق میں کافر ہوں ،مجھے مسلمانی کی ضرورت نہیں
میری ہر رگ تار تار ہو گئی ہے مجھے زنار کی بھی ضرورت نہیں
از سر بالیں من بر خیز اے نادان طبیب
درد مند عشق را  دارو بجز دیدار نیست
اے نادان معالج میرے سر ہانے سے اُٹھ جا
عشق کے بیمار کا علاج سوائے دیدار کے ممکن نہیں
ابر را با دیدۂ گریان من نسبت مکن
نسبتت با رود کے باران خونبار نیست
بادل کو میری آنکھوں سے نسبت نہ دو
بارش کو خون کے آنسوؤں سے کوئی نسبت نہیں
شاد اے دل کہ فردا برسر بازار عشق
مژدۂ قتل ست گرچہ وعدئے دیدار نیست
اے دل خوش ہو جاکہ آنے والے کل کو بازار عشق میں
تیرے لئے قتل کی خوشخبری ہے مگر دیدار کا دعدہ نہیں
خلق می گوید کہ خسرو بت پرستی میکند
آرے آرے میکنم با خلق عالم کار نیست
لوگ مجھے کہتے ہیں کہ خسرو بتوں کو پوجتا ہے
ہاں ہاں میں ایسے کرتا ہوں دنیا والوں  کو ہم سے کوئی کام نہیں

Dilam Dar Ashqi Awara Shud Awara Tar Bada
Tanam Az Baidili Baichara Shud Baichara Tar Bada

دلم در عاشقی آورہ شد آدارہ تر بادا
تنم از بیدلی یبچارہ شد یبچارہ تر بادا
میرا دل عاشقی میں آوارہ ہو گیا ہے ، خدا کرے یہ اور زیادہ آوارہ ہوتا جائے
میرا بدن بے دلی سے کمزور ہو گیا ہے ، یہ کمزور ہوتا چلا جائے
بہ تاراج  عزیزان زلف تو عیارے دارد
بہ خونریز غریبان چشم تو عیارہ تر بادا
اپنے عزیزوں کی غارت گری میں تیری زلف عیار نے بڑا کام کیا ہے
غریبوں کا خون بہانے کو تیری نظریں اور زیادہ  عیار ہو جائیں
رخت تازہ ست و بہر  مردن خود تازہ تر خواہم
دلت خارہ ست و بہر کشتن من خارہ تر بادا
تیرا رخ تازہ ہے لیکن مجھے مارنے کو اور زیادہ تازہ ہو جائے
تیر ا دل پتھر ہے لیکن مجھے مارنے کو اور زیادہ سخت ہو جائے
گر اے زاہد ، دعای خیر میگوئی مرا ، این گو
کہ آن آوارہ از کوی بتان آوراہ تر بادا
اے عبادت گزاردعا دینی ہے تو یہ کہہ
کہ مجھے جیسا آورہ محبوب کی گلی میں زیادہ آوراہ ہو جائے
ہمہ گویند کز خونخواریش خلقے بہ جان آمد
من این گویم کہ بہر جان من خونخوارہ تر بادا
سب کہتے ہیں کہ وہ معشوق کی خونخواری سے دل و جان سے تنگ ہیں
میں یہ کہتا ہون کہ وہ میری جان کے لئے اور زیادہ خونخوار ہو جائے
دل من پارہ گشت از غم ، نہ زانگونہ کہ بہ گردد
وگر جانان بدین شاد است ، یا رب ، پارہ تر بادا
میر ا دل غم سے پارہ ہو گیا ہے ،نہیں کہتا کہ ٹھیک ہو
اگر یہ حالت محبوب کو پسند ہے تو اور زیادہ پارہ ہو جائے
چو با تر دامنی خو کرد خسرو با دو چشم تر
بہ آب چشم پاکان دامنش ہموارہ تر بادا
اے خسرو تیری دو آنکھوں نے دامن تر کر دیا ہے
ان آٓنسو وں سے تیر ا پاک دامن اور زیادہ ہموار ہو جائے

Khabaram Raseed Imshab Ke Nigaar Khuahi Aamad
Sar-e Man Fidaa-e Raah-e Ki Sawaar Khuahi Aamad

خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدای راہے کہ سوار خواہی آمد
میرے محبوب مجھے خبر ملی ہے کہ تو آج رات کو آئے گا
میر ا سراُس راہ پر قربان جس راہ پر تو سواری کرتا آئے گا
بہ لبم رسیدہ جانم ،تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازان کہ من نمانم، بہ چہ کار خواہی آمد؟
میری جان ہونٹوں پر آگئی ہے ، تو آجا کہ میں زندہ رہوں
پھر جب میں نہ رہوں گا تو کس کام کے لئے آئے گا
غم و غصہ فراقت بکشم چنانکہ دانم
اگرم چو بخت روزے بہ کنار خواہی آمد
تیری جدائی  کا غم  اور دکھ بس میں ہی جانتا ہوں
جس دن تو پہلو میں آئے گا سب غم بھلا دوں گا
دل و جان ببرد چشمت بہ دو کعبتین و زین پس
دو جہانت داو، اگر تو بہ قمار خواہی آمد
دل و جان چھین کر لے گیئں ہیں تیر ی دو آنکھیں اپنے دانوں سے
اب دونوں جہان داو پر لگ جائیں اگر تو قمار  بازی پر آئے
می تست خون خلقے و ہمی خوری دما دم
مخور این قدح کہ فردا بہ خمار خواہی آمد
تیری شراب تو عاشقوں کا خون ہے اور تو لگاتار پیتا جا رہا ہے
اس پیالے کو ترک کر دے کہ کل تو نے بھی خماری میں آجانا ہے
کششے کہ عشق دارد نہ گزاردت بدینساں
بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد
عشق کی کشش بے اثر نہیں ہوتی
جنازہ پر نہ سہی مزار پر تو آئے گا
ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد
صحرا کے ہرن اپنے ہاتھوں میں اپنا سر اٹھا کے پھر رہے ہیں
اس امید پر کے تو کسی روز شکار کے لئے آئے گا
بہ یک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسرو
چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد
تیری ایک آمد پر خسرو کے دل وجان دین دنیا چلے گئے
کیا ہو گا جب اسی طرح دو تین با ر آئے گا

Ay Chehra-e Zeba-e-Tu Rashk-e butan-e-Azari
ای چہرہ زیبای تو رشک بتان آزری


ای چہرہ زیبای تو رشک بتان آزری
ہر چند وصف می کنم در حسن زاں بالا تری
تو از پری چا بک تری ، و ز برگ گل نازک تری
و ز ہر چہ گوئم بہتری ، حقا عجائب دلبری
تا نقش می بندد فلک ، ہر گز ندادہ ایں نمک
حوری ندانم یا ملک، فرزند آدم یا پری
عالم ہمہ یغمای تو ، خلقی ہمہ شیدای تو
آں نرگس شہلای تو آوردہ رسم کافری
آفاقہا گردیدہ ام مہر بتاں ورزیدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزی دیگری
ای راحت و آرام جان با قد چوںسرورواں
زینساں مرو دامن کشاں کا رام جانم می پری
من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جان شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
خسرو غریب است و گدا افتادہ در شہر شما با شد کہ از بہر خدا سوی غریباں بنگری

Zee Haal e Miskeen Makun Taghaful
ز حال مسکین مکن تغافل


ز حال مسکین مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تا ب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
شبان ہجراں دراز چوں زلف وروز وصلت چو عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردتسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں
چو شمع سوزاں چو زرہ حیراں ز مہر آن مہ بگشتم آخر
نہ نیند نیناں ، نہ انگ چیناں نہ آپ آیئں  نہ بھیجیں پتیاں
بحق روز وصال دلبر کہ داد مارا فریب خسرو
سپت منکے ورائے راکھوں جو جائےپاوں پیا کہ کھتیاں
امیر خسرو
Amir Khusro
  

Nami Danam Che Manzil Bood
نمی دانم چہ منزل بود

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم
پر ی پیکر نگاری ، سرو قد ، لالہ رخساری
سراپا آفت دل بود شب جائے کہ من بودم
رقیباں گوش بر آواز ، او در ناز من ترساں
سخن گفتن، چہ مشکل بود شب جائے کہ من بودم
خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو
محمد شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم

امیر خسرو
Amir Khusro

Bahraist Bahr e Ishq Ke Bahaichash Kinara Naist

 

بحریست بحرِ عشق کہ بہیچش کنارہ نیست
آن جا جُز اینکہ جاں بسپارند چارہ نیست

عشق کا سمندر ایسا سمندر ہے جِس کا کوئی کنارہ نہیں،وہاں بجُز جان دینے کے اور کوئی چارہ نہیں۔۔

آں دم کہ دِل بہ عشق دہی خوش دمے بود
در کارِ خیر حاجتِ ہیچ اِستخارہ نیست

جِس وقت بھی دِل کو عشق میں لگا دو وہی وقت اچھا ہو گا،کیونکہ نیک کام کرنے کے لئے کِسی اِستخارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔

مارا بمنعِ عقلِ مترسان و مے بیار
کآں شحنہ در وِلایتِ ما ہیچ کارہ نیست

عقل کی ممانعت کی وجہ سے ہمیں عشق سے نہ ڈرا اور شراب لا،اِس لئے کہ عقل ایسا سپاہی ہے جِس کا مُلکِ عشق میں کوئی کام نہیں۔۔

از چشمِ خود بپُرس کہ مارا کہ میکُشد
جاناں گناہِ طالع و جرمِ ستارہ نیست

اپنی آنکھ سے پوچھ کہ ہمیں کون قتل کر رہا ہے؟ میری جان یہ نصیبہ کی خطا یا ستارے کا جرم نہیں بلکہ تیری آنکھ کا ہے۔۔

رُویش بچشمِ پاک تواں دید چوں ہِلال
ہر دیدہ جائے جلوہء آں ماہ پارہ نیست

اِس کا چہرہ ہلال کی طرح پاک نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے،کیونکہ ہر آنکھ اُس ماہ پارے کے جلوے کی جگہ نہیں ہے۔۔

فُرصت شُمر طریقہء رِندی کہ ایں نِشاں
چوں راہِ گنج ہر ہمہ کس آشکارہ نیست

رِندی کے راستے کو غنیمت سمجھ اِس لئے کہ یہ نِشان خزانے کے راستے کی مانند ہر شخص پر آشکارہ نہیں۔۔

نگرفت در تو گِریہء حافظ بہیچ روی
حیرانِ آں دِلم کہ کم از سنگِ خارہ نیست

حافظ کی گریہ و زاری نے کِسی طرح بھی تجھ پر اثر نہ کیا،میں تو تیرے دِل پر حیران ہوں جو کِسی طرح بھی سنگِ خارہ سے کم نہیں ہے۔۔

Ek Main He Nahin Un Per Qurban Zamana Hai
Jo Rab e Do Alam Ka Mahboob Yaqana Hai

اک میں ہی نہیں اس پر قربان زمانہ ہے
جو رب دو عالم کا محبوب یگانہ ہے
کل جس نے ہمیں پُل سے خود پار لگانا ہے
زہرہ کا وہ بابا ہے سبطین کا نانا ہے
اُس ہاشمی دولہا پر کونین کو میں واروں
جو حُسن و شمائل میں یکتائے زمانہ ہے
عزت سے نہ مر جائیں کیوں نام محمد پر
ہم نے کسی دن یوں بھی دنیا سے تو جانا ہے
آو در زہرہ پر پھیلائے ہوئے دامن
ہے نسل کریموں کی لجپال گھرانہ ہے
ہوں شاہ مدینہ کی میں پشت پناہی میں
کیا اس کی مجھے پرواہ دشمن جو زمانہ ہے
یہ کہ کے در حق سے لی موت میں کچھ مہلت
میلاد کی آمد ہے محفل کو سجانا ہے
قربان اُس آقا پر کل حشر کے دن جس نے
اَس اُمت عاصی کو کملی میں چھپانا ہے
سو بار اگر توبہ ٹوٹی بھی تو حیرت کیا
بخشش کی روائت میں توبہ تو بہانہ ہے
ہر وقت وہ ہیں میری دُنیائے تصور میں
اے شوق کہیں اب تو آنا ہے نہ جانا ہے
پُر نور سی راہیں ہیں گنبد پہ نگاہیں ہیں
جلوے بھی انوکھے ہیں منظر بھی سہانا ہے
ہم کیوں نہ کہیں اُن سے رُو داد الم اپنی
جب اُن کا کہا خود بھی اللہ نے مانا ہے
محروم کرم اَس کو رکھیئے نہ سرِ محشر
جیسا ہے نصیر آخر سائل تو پُرانا ہے
Naseer ud Din Naseer
نصیر الدین نصیر

Jo Bane Aaina Woh Tera Jalwa Daikhe
Apni Soorat mein Tere Husn Ka Jalwa Daikhe

جو بنے آئینہ وہ تیرا تماشا دیکھے
اپنی صورت میں تیرے حسن کا جلوہ دیکھے
ہائے کس طرح تجھے عاشق شیدا دیکھے
تیرا سایہ بھی نہیں ہے جو سایہ دیکھے
تیری شانیں ہیں ہزاروں ،تیرے جلوے ہیں لاکھوں
دو ہی آنکھیں ہوں ملیں جس کو وہ کیا کیا دیکھے
قیس کو ہوش نہیں لب پہ انا لیلیٰ ہے
اپنے دیوانے کو آ کر ذرا لیلیٰ دیکھے
دیکھنے والے تیرے دیکھتے ہیں یوں تجھ کو
جیسے دریا کی طرف پیاس کا مارا دیکھے
کیا سمجھ رکھا ہے اللہ کو تو نے اکبر
آنکھیں کھولے ہوئے بیٹھا ہے کہ جلوہ دیکھے

شاہ اکبر دانا پوری

Adam Se layi Hai Hasti Main Arzoo E Rasool
عدم سے لائی ہے ہستی میں آرزوئے رسول

عدم سے لائی ہے ہستی میں آرزوئے رسول
کہاں کہاں لئے پھرتی ہے جستجوئے رسول
تلاش نقش کف پائے مصطفے کی قسم
چنے ہیں آنکھوں سے ذرات خاک کوئےرسول
بلائیں لوں میں تیری ائے جذبہ ء شوق صل علےٰ
کہ آج دامن دل کھنچ رہا ہےسوئےرسول
شگفتہ گلشن زہرا کا ہرگل تر ہے
کسی میں رنگ علی اور کسی میں بوئے رسول
عجب تماشاہو میدان حشر میں بیدم
کہ سب ہوں پیش خدا اور میں رو بروئے رسول


Tum jo chaho to mere dard ka darmaan ho jayay
تم جو چاہو تو مرے درد کا درماں ہو جائے


اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے
آدمی کثرت انوار سے حیراں ہو جائے
تم جو چاہو تو مرے درد کا درماں ہو جائے
ورنہ مشکل ہے کہ مشکل مری آساں ہو جائے
او نمک پاش تجھے اپنی ملاحت کی قسم
بات تو جب ہے کہ ہر زخم نمکداں ہو جائے
دینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے
کہ مجھے شکوہ کوتاہی داماں ہو جائے
اس سیہ بخت کی راتیں بھی کوئی راتیں ہیں
خواب راحت بھی جسے خواب پریشاں ہو جائے
خواب میں بھی نظر آ جائیں جو آثار بہار
بڑھ کہ دامن سے ہم آغوش گریباں ہو جائے
سینہ شبلی و منصور تو پھونکا تو نے
اس طرف بھی کرم اے جنبش داماں ہو جائے
آخری سانس بنے زمزمہ ہو اپنا
ساز مضراب فنا تار رگ جاں ہو جائے
تو جو اسرار حقیقت کہیں ظاہر کر دے
ابھی بیدم رسن و دار کا ساماں ہو جائے


Kaba e dil Qibla e Jaan taaqay abrooyay ali
کعبہ دل قبلہ جان طاق ابروئے علی

کعبہ دل قبلہ جان طاق ابروئے علی
ہو بہو قرآن ناطق مصحف روئے علی
خاک کے ذروں میں عطربوترابی کی مہک
باغ کے ہر پھول سے آتی ہے خوش  بوئے علی
اے صبا کیا یاد فرمایا ہے مولا نے مجھے
آج میرا دل کھنچا جاتا ہے کیوں سوئے علی
دامن فردوس ہے ہر گوشہ شہر نجف
ہے مقیم خلد گویا ساکن کوئے علی
کیوں نہ ہوں کونین کی آزادیاں اس پر نثار
ہے دل بیدم اسیر دام گیسوئے علی
 بیدم وارثی
Bedam Warsi


Wo Kamaal-e-Husn-e-Huzoor Hay Kay Gumaan-e-Naqs Jahaan Nahin
وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں


وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
میں نثار تیرے کلام پر ملی یوں تو کس کو زباں نہیں
وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو وہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں
تیرے آگےیوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑےبڑے
کوئ جانے منہ میں زباں نہیں نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
بخدا خدا کا یہی ہے در نہیں اور کوئ مفر مقر
جو وہاں سے ہویہیں آ کے ہوجو یہاں نہیں تو وہاں نہیں
وہی نور حق وہی ظل رب ہے انہی کا ہے سب ہے انہی سے سب
نہیں ان کی ملک میں آسماں کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں
وہی لا مکاں کے مکیں ہوئےسر عرش تخت نشیں ہوئے
وہ نبی ہیں جن کے ہیں یہ مکاں وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں
کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرادین پارہ ناں نہیں


Kaaba ka Shouq hai na Sanam Khana Chahiye
کعبہ کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہیے


کعبہ کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہیے
جانانہ چاہیے در جانانہ چاہیے
ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہیے
بس اک نگاہ مرشد میخانہ چاہیے
حاضر ہیں میرے جیب و گریباں کی دھجیاں
اب اور کیا تجھے دل دیوانہ چاہیے
عاشق نہ ہو تو حسن کا گھر بے چراغ ہے
لیلیٰ کو قیس شمع کو پروانہ چاہیے
پروردہ کرم سے تو زیبا نہیں حجاب
مجھ خانہ زاد حسن سے پروانہ چاہیے
شکوہ ہےکفر اہل محبت کے واسطے
ہر اک جفائے دوست پہ شکرانہ چاہیے
بادہ کشوں کو دیتے ہیں ساغر یہ پوچھ کر
کس کو زکوۃ نرگس مستانہ چاہیے
بیدم نماز عشق یہی ہے خدا گواہ
ہر دم تصور رخ جانانہ چاہیے

 
 


Kash Muj Par he Mujhay Yaar ka Dhoka ho Jai
کا ش مجھ پر ہی مجھے یار کا دھوکا ہو جائے


کا ش مجھ پر ہی مجھے یار کا دھوکا ہو جائے
دید کی دید تماشے کا تماشا ہو جائے
دیدہ شوق کہیں راز نہ افشا ہو جائے
دیکھ ایسانہ ہو اظہار تمنا ہو جائے
آپ ٹھکراتے تو ہیں شہیدان وفا
حشر سے پہلے کہیں حشر نہ برپا ہو جائے
آپ کا جلوہ بھی کیا چیز ہے اللہ اللہ
جس کو آ جائےنظر وہ بھی تماشا ہو جائے
کم نہیں روز قیامت سے شب وصل اس کی
شام ہی سے جسے اندیشہ فردا ہو جائے
کیا ستم ہے ترے ہوتے ہوئےاے جذبہ دل
میرا چاہا نہ ہو اور غیر کا چاہا ہو جائے
شرم اس کی ہے کہ کہلاتا ہوں کشتہ تیرا
زندہ عیسیٰٰ سے جو ہو جاو ں تو مرنا ہو جائے
میرا سامان مری بے سرو سامانی ہے
مر بھی جاوں تو کفن دامن صحرا ہوجائے
دور ہو جائیں جو آنکھوں سےحجابات دوئی
پھر تو کچھ دوسری دنیامری دنیاہو جائے
اس کی کیا شرم نہ ہو گی تجھےاے شان کرم
تیرا بندہ جو تیرے سامنے رسواہو جائے
تو اسے بھول گیا وہ تجھے کیونکر بھولے
کیسے ممکن ہے کہ بیدم بھی تجھی سا ہو جائے

1 comment:

Powered by Blogger.

SHAH-E-ROOMI